Frankfurt (Germany), May 09, 2020 : , An Indian national will face trial in Germany for spying on Sikh and Kashmiri communities for notorious Indian intelligence agency, Research & Analysis Wing, commonly known as RAW. The higher regional court in the city in a statement said that Balvir allegedly provided information about figures in the Sikh opposition scene and the Kashmiri movement and their relatives in Germany and passed this on to his handlers who were working at the Indian Consulate General in Frankfurt. The trial will open on August 25. The same Frankfurt court convicted an Indian couple for spying on the same communities last December. Federal prosecutors allege the suspect, identified as 54-year-old Balvir, has been working with the Indian foreign intelligence agency Research & Analysis Wing (RA) since 2015.
انٹر نیشنل ہیومن رائٹس کورٹ اور کشمیر میں عدالتِ انصاف(آئی پی ٹی کے) نامی این جی او کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق قابض بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں شمال میں 55دیہات میں کھدائی کے دوران2ہزار 700اجتماعی قبروں کا انکشاف ہواہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت مذاکرات کریں۔
ترجمان اقوام متحدہ کے مطابق گوتریس نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 60روز گزر گئے ہیں اور مقبوضہ وادی میں اسی لاکھ لوگ قید ہیں، جبکہ مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کا موقف تبدیل نہیں ہوا۔
علاوہ ازیں امریکا کے شہر لاس اینجلس میں امریکی مسلمان شہریوں کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ریلی اور مظاہرے بھی کیے گئے۔
بھارت میں بھی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا نے دفعہ 370کی منسوخی کے خلاف احتجاج کیاجس میں بھارتی وزیر جتندرا سنگھ بھی شریک تھے، اس دوران بائیں بازو کی تنظیموں کے طلبا کے گروپوں اور ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ اکھیل بھارتیہ ودیارتھیہ پریشدکے درمیان شدید تلخ کلامی بھی ہوئی، طلبا نے یونیورسٹی کنونشن سینٹر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ’’کشمیر ہے کشمیریوں کا ،ہندوستان کی جاگیرنہیں‘‘جیسے نعرے بلند کیے ۔
معروف جریدے دی اکنامسٹ‘‘نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ بی جے پی کی حکومت نے وادی کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کردیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی بندش سے بھارتی ریلوے کو دوکروڑسے زائد کا نقصان ہوا اور کرفیو اور پابندیوں کے باعث مقبوضہ وادی میں نظام زندگی مفلوج ہے۔
Srinagar, September 17 ,2019: The curfew like restrictions and communications blackout across Indian occupied Kashmir entered 44th day on Tuesday, as shops and businesses in the region remain closed since August 5.The mobile telephone services and the internet, including broadband services, continued to remain suspended since August 5.
Due to the ongoing military clampdown, the people of the Kashmir valley were facing acute shortage of basic essentials, including food, milk and life-saving drugs.